بنگلورو،26/اپریل(ایس او نیوز) لوک سبھا انتخابات کے نتائج کا انحصار جہاں مخلوط حکومت کے استحکام پر ہے تو وہیں یہ نتائج ریاست کے اہم قائدین کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ بھی کرنے والے ہیں۔ خصوصی طور پر ان انتخابی نتائج کا اثر سابق وزیراعلیٰ سدرامیا اور بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کے سیاسی مستقبل پر مرتب ہونے والا ہے۔ سدرامیا کے لئے میسور اور باگلکوٹ دو اہم چیلنج ثابت ہوں گے، کیونکہ سابقہ اسمبلی انتخابات میں سدرامیا کو میسور ضلع کے چامنڈیشوری اسمبلی حلقے سے ناکامی ہوئی تھی تو وہیں انہوں نے باگلکوٹ ضلع کے بادامی اسمبلی حلقے سے کامیابی درج کی تھی، اس حلقے میں ان کا سیاسی طور پر دوبارہ جنم ہوا تھا۔ اس مرتبہ سدرامیا نے باگلکوٹ ضلع پر زیادہ توجہ دی اور میسور میں اپنے حامی کو ٹکٹ دلانے میں بھی کامیابی حاصل کرلی۔ اگر ان دونوں حلقوں میں متحدہ امیدواروں کو ناکامی ہوئی تو سدرامیا کی سیاسی قابلیت داؤ پر لگ سکتی ہے۔ اور ان کی قیادت پر پارٹی میں ہی اختلافات ابھر سکتے ہیں۔ اسی طرح مخلوط حکومت کی کوآرڈینیٹنگ کمیٹی کے چیرمین سدرامیا کو یہاں پر بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ٹمکور اور منڈیا لوک سبھا حلقوں میں متحدہ امیدوار ناکام ہوئے تو سدرامیا کو زبردست شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ساتھ ہی حلیف جماعت جے ڈی ایس بھی ان کی دشمن بن جائے گی۔ جبکہ یڈیورپا کی قیادت میں بی جے پی نے انتخابات میں حصہ لیا ہے اگر ان کے امیدوار زیادہ تعداد میں کامیاب نہیں ہوئے تو ان کی قیادت پر بھی پارٹی سطح پر سوالیہ نشان لگ سکتاہے۔